Tag Archives: Beijing Guozijian Oil Painting Art Museum

چینی آرٹ نمائش لندن اولمپکس میں ایک بڑی کامیابی

AsiaNet 50674

بیجنگ، چین، 17 ستمبر/ سن ہوا-ایشیانیٹ/ایشیانیٹ پاکستان

24 سے  31 جولائی 2012ء تک لندن اولمپک کھیلوں کے دوران چین کے موثر ترین مصوروں کی تین نسلوں کی جانب سے بنائی گئی 100 سے زائد آئل پینٹنگز دنیا بھر کے افراد کی ثقافتی توجہ کا مرکز رہیں۔

معروف اولمپیا ایگزی بیشن سینٹر میں منعقدہ یہ نمائش بڑے پیمانے پر سراہے گئے “بیجنگ کلچرل ویک” کا حصہ تھی جو تقریبات کی اہم جھلکیوں میں سے ایک اور گیمز کے ساتھ منعقدہ کلچرل اولمپیاڈ کا حصہ تھا۔

نمائش کا انتظام بیجنگ میونسپل گورنمنٹ کے تعاون سے بیجنگ گوزی جیان آئل پینٹنگ میوزیم نے کیا تھا، اور زیادہ تر فن پارون کا موضوع ‘رنگین بیجنگ’ تھا، جو 2008ء کے کھیلوں کا میزبان رہا تھا۔

بیجنگ کو فروغ دینے کے علاوہ جولائی میں ہفتہ بھر جاری رہنے والا یہ ایونٹ چین اور برطانیہ کے درمیان دوستی کو بڑھانے کے لیے جاری بین الثقافتی روابط کا حصہ تھا جس کی دونوں ممالک کی حکومتوں کی جانب سے حوصلہ افزائی کی گئی۔

غیر ملکی شائقین کے سامنے چینی دنیائے آرٹ کے مزاج کی نمائندگی کے لیے منتخب کیے گئے فن کاروں میں جن شانگ یی، چان جیان جون، چونگ ہان، کوان شان شی، چانگ زو ینگ، یان چین ڈو، سو جیانگ اور یانگ وے یون شامل تھے۔

نمائش کا دورہ کرنے والے شائقین نے چینی آرٹ میں جدید پیشرفت اور ہونے والی تبدیلیوں کا مشاہدہ کیا جس کا مظاہرہ بنائے گئے فن پاروں میں کیا گیا تھا اور کئی شائقین پہلی بار چینی ہم عصر ثقافت سے متعارف ہوئے۔

وہ جن شانگ یی کے ‘پورٹریٹ آف اے فرینڈ’ جیسے کام سے بہت متاثر ہوئے، جو چینی ثقافت کی روایات اور یورپی’کلاسیکیت’ کی روحانیت کا ملاپ ہے۔ وجودیت کے مکتب کی نمائندگی چان جیان جون نے اپنی تصویر ‘فلائنگ سنو’ کے مسحور کن اور بامعنی انداز سے کی۔

اور چینی ثقافت کے ایک حصے تبت کی غیر معمولی نسلی خصوصیات کو چانگ زو ینگ کی جمالیاتی طور پر خوش کن ‘ڈروماز ورلڈ’ میں روایتی چینی ثقافتی اقدار کے ساتھ ملایا گیا تھا جبکہ ‘البم ¨سی 28′ از شانگ یانگ نے ہم عصر تصاویر کو ادبی دنیا کی تقریباً ناقابل احساس تلاش کے ساتھ خلط ملط کیا۔

رابطہ: وانگ وائی

ٹیلی فون: +86 10 67193035

ای میل: zxbw@vip.sina.com

ذریعہ: بیجنگ گوزی جیان آئل پینٹنگ آرٹ میوزیم

Chinese Art Exhibition A Big Hit at London Olympics

AsiaNet 50674

BEIJING, China, Sept. 17 /Xinhua-AsiaNet/Asianet-Pakistan

An exhibition of more than 100 oil paintings by three generations of China’s most influential artists was a major cultural attraction for people from all over the world during the London Olympic Games, from July 24 to 31, 2012.Held at the well-known Olympia Exhibition Centre it was part of the highly acclaimed ‘Beijing Culture Week’ that was one of the highlights of the events and part of the Cultural Olympiad, which ran in tandem with the Games.The exhibition was organized by the Beijing Guozijian Oil Painting Museum sponsored by the Beijing Municipal Government, and the focus of many of the works was ‘Colourful Beijing’, which was the host city to the 2008 Games.

Apart from promoting Beijing, the week long event in July was also part of the ongoing cross-cultural links to promote friendship between China and Britain that has been encouraged by the governments of both countries.

The artists chosen to represent the essence of the Chinese art world to foreign audiences included Jin Shangyi, Zhan Jianjun, Zhong Han, Quan Shanshi, Zhang Zuying, Yan Zhenduo , Xu Jiang and Yang Feiyun.

Visitors to the exhibition were able to absorb the modern development and changes in Chinese art demonstrated by the paintings and many were introduced to Chinese contemporary culture for the first time.

They were impressed by such work as Jin Shangyi’s ‘Portrait of a Friend’, which blends the traditions of Chinese culture and spirituality with European ‘classicism’. The school of realism was represented by the fascinating and expressive style of Zhan Jianjun in his painting ‘Flying Snow’.

And the unusual ethnic characteristics of Tibet, a part of Chinese culture, were fused with traditional Chinese cultural values in Zhang Zuying’s aesthetically pleasing ‘Droma’s World’ while ‘Album ¨C 28′ by Shang Yang mixed contemporary images with the almost intangible exploration of the literary world.

Contact: Wang Wei

Tel: +86 10 67193035

Email: zxbw@vip.sina.com

SOURCE: Beijing Guozijian Oil Painting Art Museum